حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے آغا سید حسن اور مولوی عمران رضا انصاری کے ہمراہ نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران خطے کو درپیش سنگین صورتحال، تحمل اور سفارت کاری کی ضرورت، اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی کے تحفظ کی اہمیت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں وفد نے ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے جنگ کے نتیجے میں بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور خوف و عدم تحفظ کی فضا پر گہری تشویش ظاہر کی۔ وفد نے فلسطین میں جاری تباہی اور لبنان میں جانی نقصان اور عدم استحکام کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پھیلتے ہوئے تصادم نے پورے خطے میں انتہائی سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے۔
میرواعظ نے کہا کہ ایسے نازک مرحلے پر پہلے سے کہیں زیادہ دانشمندی، تحمل اور مدبرانہ طرزِ عمل کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا، ’’جنگ انسانی مصائب میں صرف اضافہ کرتی ہے۔ اختلافات کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں، مسلسل محاذ آرائی ان کا حل نہیں ہو سکتی۔ بالآخر مشکل ترین تنازعات کے حل کے لیے بھی مذاکرات، رابطے اور گفت و شنید کی طرف ہی لوٹنا پڑتا ہے۔‘‘
میرواعظ نے زور دیا کہ موجودہ تنازعات کو مسلم دنیا کے اندر فرقہ وارانہ تقسیم کو مزید گہرا کرنے کا سبب نہیں بننے دینا چاہیے۔ ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمان پہلے ہی اسلاموفوبیا، عدم تحفظ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، سیاسی رقابتوں اور مسلکی اختلافات کو امتِ مسلمہ کو مزید کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’ہمارے اختلافات کبھی بھی ایمان، اخوت اور مشترکہ انسانیت کے وسیع تر رشتوں پر غالب نہیں آنے چاہئیں۔ ایران، فلسطین، لبنان اور دیگر مقامات پر لوگوں کی تکالیف ہمیں ہمدردی اور ذمہ داری کے احساس میں ایک دوسرے کے قریب لائیں، نہ کہ مزید دور کریں۔‘‘
میرواعظ نے ایران اور سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کے دیرینہ تعلقات کو یاد کرتے ہوئے 1989 میں امام روح اللہ خمینیؒ کے انتقال کے بعد جامع مسجد میں منعقد ہونے والے تعزیتی اجتماع کا ذکر کیا۔ انہوں نے اسلامی انقلاب کے ابتدائی برسوں میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے تاریخی دورۂ کشمیر کو بھی یاد کیا، جب انہوں نے شہیدِ ملت میرواعظ مولوی محمد فاروقؒ کی موجودگی میں جامع مسجد سرینگر میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قرآن کے پیغام، اخوت اور شیعہ سنی اتحاد پر زور دیا تھا۔
اس موقع پر میرواعظ نے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو تاریخی جامع مسجد سرینگر کی خصوصی طور پر تیار کردہ اخروٹ کی لکڑی کی یادگاری شبیہ پیش کی، جو کشمیر اور ایران کے عوام کے درمیان دیرینہ ثقافتی اور روحانی رشتوں کی علامت ہے۔
وسیع تر علاقائی اور عالمی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ جنوبی ایشیا کا اپنا تجربہ طویل کشیدگی اور حل طلب تنازعات کی بھاری انسانی قیمت کو واضح کرتا ہے اور مسلسل رابطے اور مذاکرات کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے فلسفۂ عدم تشدد کی وراثت رکھنے والا بھارت، بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی کے اس دور میں تحمل، سفارت کاری اور پُرامن روابط کی حوصلہ افزائی میں ایک تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔
میرواعظ نے کہا، ’’ہماری دنیا کو درپیش سنگین چیلنجز کو پھیلتی ہوئی جنگوں سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ محاذ آرائی انہیں مزید سنگین ہی کرے گی۔ انسانی وقار کا کوئی مسلک یا قومیت نہیں ہوتی اور ہر بے گناہ انسانی جان قیمتی ہے۔ ہمیں تاریخ کے درست جانب کھڑا رہنا ہوگا — انصاف، انسانیت اور امن کے ساتھ۔‘‘
وفد نے امید ظاہر کی کہ موجودہ بحران مزید نہیں پھیلے گا اور محاذ آرائی کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور مفاہمت غالب آئیں گے۔









آپ کا تبصرہ